جمعرات, اکتوبر 22, 2026
  • Login
  • Register
جنتری
  • صفحہ اول
  • نجوم
    • برج
    • زائچے
  • تقویم سیارگان
  • دست شناسی
  • دماغی علوم
  • متبادل شفا یابی
  • عالمی نجوم
  • علم الاعداد
  • تعلیم
  • نگینے اور ان کے خواص
  • واستو شاستر
  • بلاگ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • نجوم
    • برج
    • زائچے
  • تقویم سیارگان
  • دست شناسی
  • دماغی علوم
  • متبادل شفا یابی
  • عالمی نجوم
  • علم الاعداد
  • تعلیم
  • نگینے اور ان کے خواص
  • واستو شاستر
  • بلاگ
No Result
View All Result
جنتری
No Result
View All Result
Home نجومیات
لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

جوتش کی معروف لال کتاب کا تاریخی پس منظر اور اُسلوب

Muhammad Imran by Muhammad Imran
اکتوبر 22, 2026
in نجومیات
0
0
SHARES
90
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

قیافے، ٹوٹکے اور پیش گوئی کی دنیا میں "لال کتاب”کے نام سے تحریروں کا ایک انوکھا مجموعہ پایا جاتا ہے۔ اسے مستقل بینی اور حل المسائل کے دیسی علوم و فنون کا منتشر ملغوبہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سن 1939 سے 1952 تک لال کتاب کے نام سے پانچ مختلف کتابیں منظر عام پر آئیں۔ یہ کتابیں ترتیب سے جلد اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم نہیں تھیں۔ بلکہ ایک دوسرے کے ضمنی، وضاحتی، ترمیمی اور توسیعی ایڈیشن تھے۔

سن 1939 میں نمودار ہونے والا لال کتاب کا پہلا ایڈیشن تو مکمل طور پر منظوم تھا، جس میں محض دست شناسی، جسمانی اعضا کے قیافے اور ایک مفصل مثالی زائچہ پر مشتمل تھا۔ جس میں ٹوٹکے اور اُپائے کا علیحدہ باب شامل نہیں تھا۔ بعد میں آنے والے ایڈیشنوں میں پامسٹری کے ساتھ آسٹرولوجی، قیافہ شناسی، مثالی زائچے، سالانہ زائچے، ادوار، شگن، ٹوٹکے، نت نئے اُپائے شامل ہوتے گئے۔ لال کتاب میں کہیں کہیں واستو یعنی قدیم ہندوستانی فنِ تعمیر، کوکبی حکایات، خوابوں کی تعبیر، نیم حکیمانہ مشورے اور سیارگان کے صنمیاتی خاکے بھی ہیں۔ جو اُس دور کی عام فکر اور طرزِ زندگی کے عکاس ہیں۔

شومئی قسمت کہ پہلی اشاعت سے آخری اشاعت تک لال کتاب کو کسی نے درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ بلکہ نصف صدی تک یہ کتاب، عوام و خواص کی نظروں سے اوجھل ہی رہی۔ کیونکہ سن 1940 کے آس پاس، ہندوستان میں جاری سیاسی کشمکش، عالمی جنگ، معاشی دباؤ اور مقامی حالات کے باعث برصغیر کے قارئین کی توجہ ان علوم پر مرتکز نہ تھی۔ دوسری جانب لال کتاب، جس زبان میں لکھی گئی، وہ اُس دور کے ماہرین کے نزدیک علم نجوم کا مستند حوالہ نہیں تھی۔ لال کتاب دراصل اردو زبان میں تحریر ہوئی (مشرقی پنجاب کے لسانی اسلوب میں)۔ دیگر زبانوں (خصوصاً عربی، لاطینی، سنسکرت) کے برعکس، اردو میں علم نجوم پر کوئی ایسی منفرد کتاب موجود نہیں تھی، جسے عالمی سند یا بین الاقوامی پذیرائی ملی ہو۔ دوسری جانب پنجاب میں نجوم کے تحریری نسخوں کی روایت زیادہ قدیم نہیں۔

ابھی چند عشروں پہلے جب گمشدہ لال کتاب کا دوسرا جنم ہوا، تو دنیا بھر کے ماہرین اور عاملین چونک گئے۔ وجہ، علم نجوم کے اصول و قواعد نہیں، بلکہ بنے بنائے آسان ٹوٹکے اور اُپائے تھے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لال کتاب میں موجود مواد نجوم، جوتش کی عام روایت سے کچھ مختلف ہے۔ آج  مستقبل بینی سے دلچسپی رکھنے والا ہر دوسرا فرد لال کتاب کے نام سے آشنا ہے۔اس کے کئی زبانوں میں جزوی اور کلی تراجم ہوچکے ہیں۔

لال کتاب کی وجہِ تسمیہ

لال کتاب یعنی ریڈ بُک کی اصطلاح، مغربی دنیا میں ایک مخصوص استعارہ رہی ہے۔ ماضی کے یوروپ میں لال کتاب، ریڈ بک اور سرخ فیتے یا ریڈ ٹیپ میں لپٹی فائل سے مراد اہم سرکاری دستاویزات، محکمہ جاتی ضوابط، خفیہ احکامات، حکومتی آمدن، اخراجات، ٹیکس وغیرہ کے کاغذات ہوا کرتے تھے۔ برطانوی راج نے جب ہندوستان میں فوجی چھاؤنیوں اورکمشنری نظام کی جدید طرز پر بنیاد رکھی تو یہ الفاظ بھی مقامی اداروں کی فرہنگ کا حصہ بن گئے۔

بیسویں صدی کی ابتدا تک”ریڈ بک” کی اصطلاح دیگر شعبوں میں لکھی جانے والی کتب کے لیے بھی عام  ہوگئی۔ جیسے شہرہ آفاق ماہر نفسیات کارل ژنگ نے ذاتی مشاہدات پر مبنی تصنیف کو”ریڈ بک” کا نام دیا۔ بیسویں صدی میں ٹیکنیکل اور میڈیکل مینول کی چند کتابیں ریڈ بک کے نام سے معروف ہوئیں۔ فی زمانہ میں لال کتاب ریڈ بُک کا لفظ استعمال کرنے کی روایت دم توڑچکی۔ سرخ فیتے کی ترکیب اب مزید منفی معنوں میں استعمال کی جاتی ہے۔

لال کتاب کے ممکنہ مصنف "پنڈت روپ چند جوشی"، برطانوی ہند کے ڈیفنس ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ جہاں ریڈ بُک (لال کتاب) کی اصطلاح، اہم ترین سرکاری فائل یا دستاویز کے لیے مستعمل تھی، جس کی بیرونی جلد (کور) یا سرورق پر درج عنوان سرخ رنگ کا ہوا کرتا تھا۔

لال کتاب کا اسلوب

 لال کتاب کا پس منظر گزشتہ صدی کا غیر منقسم پنجاب اور شمالی ہندوستان کا معاشرہ ہے۔ اُس دور کی زندگی، کاروبار، مکان کی قصباتی بناوٹ، مشترکہ خاندانی نظام، سسرالی رشتے دار، پالتو جانور، رسومات، اوہام، علوم، زبان اور محاورے وغیرہ۔ اسلوب کے لحاظ سے لال کتاب کا کچھ حصہ منظوم ہے، اور بیشتر حصہ نثر ہے۔ جہاں منظوم حصہ بہت سطحی قسم کی شاعری بلکہ بےبحر تُک بندی ہے۔ فنی نکتہ نظر سے لال کتاب کی مشکل کئی علوم اور مختلف عنوانات کا متوازی بیان ہے۔ اور یہ سب کچھ ہزار سے زائد صفحات پر محیط ہے۔

اگرچہ یہ کتاب اردو زبان میں ہے، لیکن اس کی تحریر کسی پرانی جنتری کی طرح گنجلگ اور مبہم ہے۔ کچھ مقامات پر مخصوص ہندی اصطلاحات بھی نظر آتی ہیں جیسے؛ آکاش، اُپاؤ،  استھان، سِدھی، بُھوساگر، بِدھاتا، پَرانی، پاپ، سبھاؤ، نشٹ، رِن وغیرہ۔ ہر عنوان سے قبل تُک بندی اور بے بحر اشعار ہیں۔ مصنف کو اس کی رعایت دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ شاعر نہیں، عام سرکاری ملازم ہے۔ جس کی دلچسپی کا محور پامسٹری اور آسٹرولوجی ہے۔ تاہم اس نے بعض کہاوتوں اور محاورں کو خوبصورتی سے احکامِ نجوم کا جامہ پہنایا ہے۔

چند دلچسپ مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ "ماں پہ دِھی پِتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا”۔ اگرچہ اس کا عام مطلب تو یہ کہ بچے لامحالہ اپنے ماں باپ کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ لیکن لال کتاب نے اسی ضرب المثل کو مجازی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ جہاں ماں کو زائچہ کا چوتھے گھر، دِھی کو برج سنبلہ، پِتا کو سیارہ مشتری، اور گھوڑے کو چاند سے نسبت دی ہے۔ مذکورہ سیارے، گھر اور برج کی ترتیب پر غور کریں گے تو لال کتاب میں بیان کیا گیا ایک اصول بن جاتا ہے۔ علم  نجوم پر مبنی شاعری کی روایت بہت قدیم ہے، لیکن رائج ضرب المثل کو احکام نجوم کے مجازی معنی پہنانےکی مثال نایاب ہے۔

اردو میں مستعمل عام فارسی محاورہ ہے”زميں جنبد نجنبد گل محمد”۔ اس مضمون کو  لال کتاب 1941 ایڈیشن نے تبدیلی کے ساتھ اس طرح برتا ہے۔”زمیں جنبد، بجنبد؛ پر نہ جنبد مہر و منگل، گر بجنبد ماہ بجنبد”۔ لال کتاب  نے یہاں سیارگان کے ناموں کے ساتھ تضمین کی ہے۔ اس شعر میں مہر یعنی شمس اور منگل یعنی مریخ کی فطری استقامت اور ضدی پن کی جانب اشارہ ہے۔ جبکہ ماہ یعنی قمر چونکہ تیز رفتار ہے لہٰذا منقلب المزاجی ممکن ہے۔

لال کتاب کا مصنف کون؟

لال کتاب کے اصلی سرورق پر کسی مصنف کا نام درج نہیں۔ ہر ایڈیشن کے ٹائٹل پر پبلشر "شرما گردھاری لال” ضرور لکھا ہے، جو سالانہ جنتریاں شائع کرتے تھے۔ اس کے اصل مصنف سے متعلق دو مفروضات ہیں۔ پہلا مفروضہ یہ کہ لال کتاب کے مصنف گردھاری لال خود ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ لال کتاب کے مصنف روپ چند جوشی ہیں۔ یہاں دوسرا مفروضہ حقیقت کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل کتاب کے ہر ایڈیشن میں گردھاری لال کا نام بطور پبلشر ضرور موجود ہے، بطور مصنف نہیں۔ لال کتاب سے منسلک دونوں افراد — روپ چند جوشی اور گردھاری لال — اب حیات نہیں۔ اور نہ ان کی کوئی مستند سوانح حیات دستیاب ہے۔

بعض محققین کے مطابق لال کتاب کے مصنف "پنڈت روپ چند جوشی” کا تعلق پنجاب کے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں سے تھا۔ انھوں نے اپنے والد پنڈت جوتی رام جوشی سے پامسٹری اور آسٹرولوجی سیکھی، اور پھر شوقیہ مطالعہ کرنے لگے۔ رُوپ چند جوشی نوجوانی میں ایک اسکول ماسٹر تھے۔ پھر انھیں انگریز سرکار کے محکمہ ڈیفنس اکاؤنٹس میں نوکوی مل گئی۔ روپ چند جوشی اس ادارے سے آخری عمر تک وابستہ رہے۔ اس محکمے کے منشی، کلرک اور اکاؤنٹنٹ، لال مجلد کھاتے لیجر رجسٹر استعمال کیا کرتے تھے۔ سرکاری اور فوجی حساب کتاب کے رجسٹر کو ڈپارٹمنٹ والے عرف عام میں "لال کتاب” کہتے تھے۔ اپنی ملازمت کے دوران ہی روپ چند جوشی نے دست شناسی اور قیافہ شناسی پر ایک کتاب لکھی۔ جس کا نام  "لال کتاب” رکھا۔ اسے پہلی بار گردھاری لال نے 1939 میں جالندھر سے شائع کیا۔ پہلی اشاعت کے بعد یہ کتابی سلسلہ بن گیا۔ سن 1952 میں شائع ہونے والا اس کا آخری ایڈیشن سب سے منفرد اور ضغیم ہے، اور سب سے زیادہ معروف بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ پنڈت روپ چند جوشی نے  "لال کتاب ” کو خود تصنیف کیا  تھا، یا یہ کسی قدیم نسخے کا اردوترجمہ ہے؟ کیونکہ لال کتاب اپنے تئیں زرا مختلف نوعیت کا علم نجوم  پیش کرتی ہے۔ لال کتاب میں موجود اصول اور احکامِ نجوم، سکہ بند جوتش سے قدرے مختلف ہیں۔

حالیہ برسوں میں ایک من گھڑت کہانی کو قصداً فروغ دیا گیا کہ گردھاری لال یا روپ چند جوشی کو لال کتاب کا نسخہ ہمالے کے ایک جوگی نے تحفہ دیا تھا۔ جس میں قدیم ترین جوتش کا اصل راز چھپا ہے۔ میرے محدود مطالعے کے مطابق یہ جوتش کی قدیم کتاب بالکل نہیں۔ سنسکرت زبان جاننے والا کوئی محقق اس کی سند نہیں دیتا۔ لیکن انٹرنیٹ پر موجود شوقین نجومی ایسے مفروضوں کو آنکھ بند کر کے آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ سنسکرت میں لکھی جوتش کی سیکڑوں کتب کے قدیم نسخے آج ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان میں سے درجنوں کے انگریزی میں تراجم ہوچکے ہیں۔ جوتش کی قدیم سنسکرت کتب کا اسلوب، ابتدا، اختتام، ابواب کی ترتیب، تراکیب اور اصطلاحات لگے بندھے انداز میں ڈھلی ہیں۔ کیونکہ ان کے لکھنے اورپڑھنے والے صرف خاص براہمن گھرانے ہوا کرتے تھے۔ لال کتاب ان میں سے کسی کسوٹی پر پوری نہیں اُترتی۔ لال کتاب کا اندازوبیان عوامی ہےاور ترتیب حالیہ دور کی اختراع ہے۔

تاہم لال کتاب میں موجود پامسٹری کے بعض نکات لامحالہ قدیم ہست سامدرک شاستر سے اخذ کردہ معلوم ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں سامدرک یعنی دست شناسی اور قیافہ شناسی کا علمی ذخیرہ تحریری نہیں رہا۔ بلکہ سینہ بہ سینہ زبانی oral-tradition منتقل ہوتا رہا ہے۔ مستقبل بینی کے میدان میں سامدرک کو درجہ دوم اور سوم کا علم سمجھا جاتا ہے۔ جس میں ریاضی اور ہیئت سے زیادہ ظاہری قیافے اور شگن کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جوتش ایک مشکل میدان رہا ہے، جسے ریاضی، ہیئت اور مخصوص قواعد کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔ اسی لیے اسے خواص کا علم بھی کہا جاتا تھا۔ جوتش کی کتابیں ہزاروں برس سے سنسکرت میں لکھی جاتی رہی ہیں۔  اگر روایتی جوتش کی کتب اور لال کتاب کے متن کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ لال کتاب، قدیم جوتش کے کسی نسخے پر مبنی نہیں۔ بلکہ گذشتہ چند صدیوں کے دوران قصباتی علاقوں میں فروغ پانے والا سادہ متبادل ہے۔ لال کتاب کی آسٹرولوجی اور سنسکرت جوتش کتب میں وہی فرق ہے، جو فارسی غزل اور فلمی قوالی میں ہے۔ لال کتاب کے وجود اور اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ اعتراض، لال کتاب کو بلا سند و ثبوت قدیم ترین، خفیہ ترین اور کرشماتی ثابت کرنے کے من گھڑت عوامی دعوے پر ہے۔ اس کے برعکس کتاب کا مصنف ایسا کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتا۔

بیسویں صدی کے روپ چند جوشی کو مصنف تسلیم کرنے کی دوسری وجہ کتاب کے اندر موجود کچھ مخصوص اصطلاحات ہیں، جو عموماً گورنمنٹ اور فوجی ملازمین استعمال کرتے ہیں: جیسے "ہیڈکوارٹر”۔ لال کتاب کے مصنف نے سیاروں کے "بھاو کارک” اور "مُول ترکون راشی” کے متوازی گھروں کو جابجا "ہیڈکوارٹر” کہا ہے۔ اور درجنوں بار "ہیڈکوارٹر” کی تشبیہ استعمال کی ہے۔ یہ لفظ کسی اور نئی پرانی جوتش کتاب میں نظر نہیں آتا۔ کچھ انوکھی تراکیب بھی ہیں جیسے "شکی گرہ”، "مصنوعی گرہ” اور "پکے گھر” وغیرہ۔ یہ سنسکرت جوتش کی روایتی تراکیب نہیں، اور نہ ہی ان کا ترجمہ ہیں۔ لال کتاب کی تحریر اور اصطلاحات سے برطانوی ہند کے صوبہ متحدہ اور پنجاب کا علاقائی رنگ صاف چھلکتا ہے، مثلاً؛ "مقدماتِ دیوانی، محکمانہ علم، موٹر لاری، سونے کا پونڈ، جدی جائیداد، والدینی حال، اسکول، عیشی پٹھا، بھائی بند، زمین کے جھگڑے، گولی، الارم، ردی، شکی حالت، کچا دھواں” وغیرہ۔ اِن میں سے کوئی بھی ترکیب، سنسکرت جوتش کتب میں موجود فنی اصطلاحات کا ترجمہ نہیں۔ ان لفظوں کے پس منظر سے آپ سو سال پرانے مشرقی پنجاب کے ایک سرکاری ملازم اور اس کے قصباتی پس منظر کو سمجھ سکتے ہیں۔ جس نے جوتش جیسے مشکل عنوان کو عوامی انداز میں سب سے سامنے پیش کیا۔ اس علمی مشقت اور انفرادیت کا کریڈٹ مصنف کو ضرور جاتا ہے۔

روپ چند جوشی کو مصنف گرداننے کی تیسری وجہ یہ کہ لال کتاب میں قدیم جوتش کے برخلاف، بہت حد تک سیکولر رویہ نظر آتا ہے۔ یعنی لال کتاب مذہبی رنگ میں نہیں رنگی۔ تاریخی طور پر پنجاب میں براہمن طبقہ حاوی نہیں رہا۔ وہاں پنڈت یا مولوی کی سماجی حیثیت کچھ زیادہ نہیں رہی۔ لال کتاب کی ابتدا، دیوتاوؤں کی حمد و ثنا یا دعائیہ منقبت سے نہیں ہوتی۔ یہ سنسکرت میں لکھی پرانی جوتش کتب کے لگے بندھے سانچے کے بالکل برخلاف رویہ ہے۔ لال کتاب میں بین السطور کسی خاص عبادت گاہ، دان، یاترا، یا منتر کو ترجیح نہیں دی گئی۔ سیکڑوں صفحات کی کتاب میں چند صنمیاتی خاکے اور صرف ایک ٹیبل میں نوگرہ سے منسوب معروف دیوتاؤں کے نام اور ان کے دان (صدقات) لکھے ہیں۔ کئی ایک جگہ گوشت خوری اور شراب نوشی کو نحس مانا گیا ہے۔ لال کتاب کے آخری ایڈیشن میں بے شمار اُپائے ہیں، لیکن ان میں تنگ نظر مذہبی یا مسلکی رنگ نظر نہیں آتا۔ یہ سیکولر رویہ، اُس دور کے انگریز سرکار کے ملازمین کی خاص تربیت ہوا کرتی تھی۔  

پنڈت روپ چند جوشی کو مصنف گرداننے کی چوتھی وجہ یہ کہ لال کتاب کے آخری ایڈیشن 1952 میں ایک ریٹائر فوجی کا زائچہ نقش ہے۔ جو ممکنہ طور پر مصنف کا شناسا تھا۔ اس شخص کے زائچہ پر تاریخ پیدائش اگست 1911 درج ہے۔ مولود اپنی عمرکے  39ویں برس 1950 میں لال کتاب کے مصنف سے مشاورت کے لیے آیا۔ اس شخص کی زندگی کے اہم واقعات ایک جدول میں معہ سال تحریر ہیں۔ واقعات کی فہرست میں عمر کے 36ویں برس یعنی 1944-45 میں جاری جنگِ عظیم میں شرکت کا واقعہ درج ہے۔ صاحبِ زائچہ لڑائی کے دوران سات گولیوں سے شدید زخمی ہوکر بے ہوش ہوا۔ اسے لاش سمجھا کر واپس لایا گیا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ جانبر ہوگیا۔ چونکہ روپ چند جوشی، بذات خود ڈیفنس اکاؤنٹس کے محکمے میں ملازم تھے، اس لیے ان کا برٹش انڈیا کے مقامی فوجی سپاہیوں اور افسران سے یقیناً واسطہ رہا ہوگا۔

اس کے علاوہ لال کتاب میں پنڈت دیوی دیال کی 1936 میں چھپی سالانہ جنتری کا حوالہ بھی موجود ہے۔ بلکہ اس بنیاد پر 14 مارچ 1936 کا ایک اورمثالی زائچہ بھی دیا گیا ہے۔ جوتش کی سنسکرت کتب باالخصوص "ہورا "اور "جاتک” میں مثالی زائچہ بیان کرنے کی روایت موجود نہیں۔ زمانہ قدیم میں انفرادی اور مثالی زائچوں پر مشتمل تحریری مجموعے کو "ناڑی” بھی کہا جاتا تھا۔ جس کا چلن جنوبی ہندوستان میں زیادہ رہا ہے۔ اس کے برعکس لال کتاب میں حالیہ دور کےمثالی اور حقیقی زائچے نقش ہیں۔

مذکورہ بالا تمام حوالے، دلیلیں اور توجیہات، لال کتاب کو قدیم نسخے کے ترجمے کے بجائے بیسویں صدی کی تصنیف ثابت کرتی ہیں۔

لال کتاب کے پانچ روپ

پانچ ایڈیشن پر مبنی لال کتاب کی اشاعت کا سلسلہ تقسیم ہندوستان سے قبل اور بعد میں شائع ہوتا رہا۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔

سامُدرک کی لال کتاب کے فرمان – اشاعت: 1939 جالندھر

سامُدرک لال کتاب کے ارمان – اشاعت: 1940 جالندھر

سامُدرک کی لال کتاب  – اشاعت: 1941 جالندھر

علمِ سامُدرک کی لال کتاب – اشاعت: 1942 جالندھر

جوتش کی لال کتاب – اشاعت: 1952 جالندھر، طباعت نئی دہلی۔

لال کتاب کے تمام پانچوں ایڈیشن، جالندھر سے شرما گردھاری لال نے شائع کیے۔ ان کا نام اور تصویر، لال کتاب میں بطور پبلشر موجود ہے۔ ابتدائی چار ایڈیشنوں 1939، 1940، 1941، 1942 کی اردو کتابت ایک ہی کاتب نے کی۔ کتاب کے آخری صفحے کی آخری سطر کے نیچے کاتب کا نام "آتما رام نور پوری” رقم ہے۔ سابقہ ریاست نور پور، اس دور کے پنجاب کے ضلع کانگڑہ کا حصہ تھی۔ اب یہ علاقہ ہماچل پردیش کا حصہ ہے۔ اسی نور پور کے علاقے دھرمسالا میں لال کتاب کے ابتدائی چار ایڈیشن کی پرنٹنگ ہوئی۔ اور چاروں کا اسلوب اور انداز زیادہ مترتب نہیں۔

یہاں ایک نکتہ قابلِ غور ہے۔ وہ یہ کہ پہلے چار ایڈیشن یکے بعد دیگرے ہر برس شائع ہوئے۔ لیکن پانچواں ایڈیشن دس سال کے وقفے کے بعد 1952 میں شائع ہوا۔ اس کی پرنٹنگ نئی دلی New Delhi میں ہوئی۔ یہ آخری ایڈیشن سب سے ضغیم ہے، جس کے 1173 صفحات ہیں۔ اس کی  کتابت قدرے خوبصورت ہے۔ اردو جملے نسبتاً سہل اور صاف ہیں۔ بلکہ چند مقامات پر انگریزی مترادفات اور شہ سرخیاں بھی درج ہیں۔ نیز آسٹرولوجی سے متعلق بہت سا معیاری مواد شامل ہے۔ نامانوس ہندی الفاظ، مشکل اصطلاحات اور ٹیبل کے وضاحتی فُٹ نوٹس موجود ہیں۔ لال کتاب کے پانچویں ایڈیشن 1952 میں شاعری ناصرف محدود ہے، بلکہ گذشتہ اشاعتوں سے مختلف بھی ہے۔ اس میں روایتی جوتش اور لال کتاب کی آسٹرولوجی کے درمیان فرق کی وضاحت زیادہ بہتر انداز میں کی گئی ہے۔ اُپاوؤں (ریمیڈیز) کے لیے ہر فصل میں ایک علیحدہ باب بھی مختص کیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ لال کتاب 1952 کی پرنٹنگ سے قبل اسے دِلی کے کسی مقامی جوتشی نے نظر ثانی کی غرض سے ضرور دیکھا ہوگا۔ اس کے سرورق پر اردو میں "جوتش کی لال کتاب” اور انگریزی میں "Astrology_based_on_Palmistry” کا عنوان درج ہے۔ دِلی سے چھپنے والا لال کتاب کا یہی پانچواں ایڈیشن، انگریزی اور ہندی میں جزوی اور کلی طور پر ترجمہ ہوا ہے۔ اور اِسے ہی آجکل لال کتاب تصور کیا جاتا ہے۔

لال کتاب کی پامسٹری

لال کتاب کے ابتدائی چاروں ایڈیشن کے سرورق پر "جوتش” Jyotish کا لفظ موجود نہیں تھا۔ اس کی جگہ "سامُدرک”  Samudrik کا لفظ درج تھا۔  سنسکرت اور ہندی میں "سامدرک” کے لفظی معنی سمندر اور دریا سے متعلق ہیں۔ لیکن مجازاً سامدرک سے مراد دست شناسی، قیافہ شناسی اور مستقبل بینی ہے۔ کیونکہ پیشگوئی کا علم سمندر کی طرح گہرا اور اس کی لہروں کی طرح لامتناہی ہے۔ کوئی انسان، اس بحرِبےکنار کو بآسانی پار نہیں کرسکتا۔

لال کتاب کا پہلا کا ایڈیشن 1939 روایتی دست شناسی اور قیافہ شناسی پر مبنی تھا۔ اس میں جابجا اُپائے موجود نہیں۔ صرف پامسٹری اور جسمانی اعضا سے پیش گوئی کے نتائج لکھے ہیں۔ تعارفی اور اختتامی ابواب میں کتاب کا مقصد بھی یہی بیان کیا گیا ہے۔ لال کتاب کے مطابق اگر کسی کو اپنی حتمی تاریخ اور وقت پیدائش معلوم نہ ہو، یا جوتش کی کنڈلی درست نہ بنی ہو تو وہ دست شناسی اور جسمانی اعضا کے قیافے کی مدد سے "سامدرک کنڈلی” بنالے۔ لیکن سامدرک کنڈلی بنانے کے اصول و قواعد کافی گنجلک اور نامکمل ہیں۔ لال کتاب میں سیارگان کے نتائج اسی "سامدرک کنڈلی” کے حوالے سے لکھے ہیں۔

لال کتاب میں بیان کردہ دست شناسی کے قواعد، عام انگریزی کتب میں موجود پامسٹری سے کافی الگ ہیں۔ لال کتاب کی دست شناسی، ویسٹرن پامسٹری کی طرح نفیساتی انداز کی نہیں۔ بلکہ زندگی کے اہم واقعات اور پیش گوئی پر مرکوز ہے۔ اس کی عبارت کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے، کیونکہ اندازِ بیان گنجلک اور لکیروں کے خاکے قدرے خام ہیں۔ اِس سقم کے باوجود لال کتاب کی پامسٹری کے بعض نکات، حیران کن طور پر درست ثابت ہوتے ہے۔ کیونکہ یہ قدیم ہندوستانی ہست سامدرک (انڈین پامسٹری) کی دیسی شکل ہے۔ اور اس میں سیکھنے والوں کے لیے اہم اشارے موجود ہیں۔

لال کتاب کا مصنف، اپنے زمانے یعنی بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں دستیاب ویسٹرن آسٹرولوجی، اور کیرو کی پامسٹری سے بھی آگاہ نظر آتا ہے۔ اس کا اندازہ لال کتاب میں موجود علاماتِ نجوم سے ہوجاتا ہے۔ یہ ویسٹرن آسٹرولوجی میں رائج بروج اور سیارگان کی علامات ہیں۔ ان کا ماخذ قدیم سنسکرت یا عربی کتب نہیں۔ آج کل دنیا بھر میں سیارگان اور بروج کو مخفف کے طور پر لکھنے کی جو علامات glyphs معروف ہیں، ان کا فروغ دور وسطیٰ کے یوروپ سے ہوا تھا۔ بروج اور سیارگان کی یوروپی علامات، انیسویں صدی کے اواخر تک بذریعہ انگریزی کتب، ہندوستان پہنچ چکی تھیں۔ ♈️ ♉️ ♊️ ♋️ ♌️ ♍️ ♎️ ♏️ ♐️ ♑️ ♒️ ♓️ ان علامات نے بیسویں صدی کے ابتدا تک مقامی ہندوستانی جنتریوں میں جگہ بنالی تھی۔ لال کتاب کا مصنف بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ لال کتاب کے اصل نسخے میں یہ علامات موجود ہیں ۔اس کے علاوہ جدید مغربی دست شناسی  کی ہلکی سی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ مثلاًہاتھ کی ساخت، انگوٹھے کے تین حصے، اور انگلیوں کی لمبائی کا موازنہ وغیرہ کے نتائج جدید مغربی انداز کی پامسٹری سے اخذ کردہ ہیں۔ تاہم بطور مجموی یہ دیسی روایاتِ دست شناسی کا مجموعہ ہے۔ مثلاً ہاتھوں اور پیروں موجود مخصوص "لکشن، یوگ، پربت، اورگھر”کے نتائج خالصتاً قدیم ہست سامدرک شاستر کی عکاسی کرتے ہیں۔

لال کتاب میں پامسٹری اور آسٹرولوجی کی فنی اصطلاحات کی ہیر پھیر سمجھنا آسان نہیں۔ عام طالبعلم کو سب سے بڑی الجھن لفظ راشی یا برج سے متعلق دکھائی دے گی۔ کنڈلی میں راشی نمبر اور گھر نمبر کی مشکل اب ایک عوامی مغالطہ بن گئی ہے۔ لال کتاب میں برج کا لفظ صرف راشی یعنی سائن کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ ہتھیلی کے اُبھاروں یا پربت کو بھی برج کہا گیا ہے۔ کیونکہ عربی اور اردو میں "برج” کا لفظی مطلب بلندی یا اونچائی پر موجود مستحکم شے یا مینارہ نما عمارت بھی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ہتھیلی کے برج یعنی ابھار کو "گرہ” یعنی سیارہ بھی کہا گیا۔ کیونکہ ہر ابھار کسی نہ کسی سیارے سے منسوب ہے۔ پھر "راشی” کا لفظ انگلیوں کی بارہ پوروں کے لیے بھی نقش ہے۔ یہی لفظ راشی، اناج کے ڈھیر اور مجازاً دھن دولت کو بھی کہا گیا ہے۔ انگلیوں کے عام فہم ناموں کے بجائے ہندی اسم معرفہ استعمال کیے گئے ہیں۔ شہادت کی انگلی کو "تَرجنی” کہا گیا ہے۔ درمیانی طویل انگلی کو "مدھما” مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے برابرانگوٹھی والی انگلی کو "انامکا”کہا گیا ہے۔ اور سب سے چھوٹی انگلی کو "کنشٹکا” پکارا گیا ہے۔ جبکہ زائچہ یعنی کنڈلی کے لیے "ٹیوا” اور "ٹپٹرا”کے پنجابی الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ پرانی کتابت کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے لال کتاب کے لفظ "روی” (بمعنی شمس)، اور "ردی” (بمعنی بیکار) میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر ایک غیرمعروف ہندی لفظ "بدھاتا” کئی مختلف معنوں میں لال کتاب کی نظم اور نثر کا حصہ نظر آتا ہے۔ لہٰذا نئے دور کے قارئین کے لیے پرانی لال کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت لفظوں کے مختلف استعمال اور ان کے سیاق و سباق کو دھیان میں رکھنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

لال کتاب میں لفظ "فرمان” سے مراد سرکاری حکم یا شاہی فرمان نہیں، بلکہ پوائنٹ، اصول کی شق، موضوع کا نکتہ ہے، جنھیں ابواب کی شکل دی گئی ہے۔ جیسے پرانی انگریزی تحریروں میں کسی اصول یا عنوان کے لیے لفظ آرٹیکل یا سیکشن تحریر ہوتا تھا۔ دوسرے ایڈیشن 1940 کا نام "سامدرک لال کتاب کے ارمان” ہے۔ یہاں لفظ "ارمان” سے مراد دل کی آرزو یا خواہش نہیں، بلکہ پوائنٹ، اصول کی شق، موضوع کا نکتہ اور قاعدہ ہی ہے۔ لال کتاب کے پہلے ایڈیشن 1939 میں لکھے "فرمان”، اور دوسرے ایڈیشن 1940 کے "ارمان” ایک دوسرے سے نتھی ہیں۔ یعنی 1940 کا ایڈیشن، 1939 کے ایڈیشن کا تکمیلی حصہ دوم ہے۔ تاہم ان دونوں جلدوں میں کتابت کی بے شمار غلطیاں ہیں۔ درست مطالعے کے لیے کتاب کے آخر میں دیا غلط نامہ errata پیشِ نظر رہے۔

لال کتاب کی آسٹرولوجی

لال کتاب بنیادی طور پر روایتی جوتش کی نہیں، بلکہ سامدرک (یعنی دست شناسی اور قیافہ شناسی) اور جوتش کے دیسی مرکب کی کتاب ہے۔ جس میں جسمانی اعضا، ہاتھ کی لکیروں، ابھاروں اور پوروں پر نقش علامات اور رہائشی مکان کے قیافے سے سیارگان کی ممکنہ پوزیشن اخذ کی جاتی ہے۔ یہاں پوزیشن سے مراد راشی یا بروج نہیں بلکہ سیارگان کے گھروں کے نمبر ہیں۔ سیارگان اور انکی پوزیشن کو خالی کنڈلی کے خانوں میں درج کیا جاتا ہے۔ پھر کنڈلی کے بارہ خانوں میں بالترتیب 1 سے 12 تک ہندے لکھ دیے جاتے ہیں۔ چاہے حقیقی لگن راشی ascendant-sign کسی بھی نمبر کا برج ہو۔ اسی کنڈلی کو لال کتاب میں "سامدرک کنڈلی” کہا گیا ہے۔ سامدرک کنڈلی درحقیقت جوتش کے مطابق بنائی گئی جنم کنڈلی یعنی اصلی تاریخ اور وقت پیدائش پرمبنی  زائچہ کا آسان دیہاتی متبادل alternate ہے۔ لال کتاب کا یہ متبادل طریقہ کسی فلکی حقیقت پر مبنی نہیں۔ بلکہ قیافے سے اخذ کردہ ایک مختلف عکس ہے۔

لال کتاب کے مصنف کے مطابق، اگر کسی کو اپنی تاریخ اور وقت پیدائش یاد نہ ہو تو وہ پامسٹری اور جسمانی اعضا کے قیافے کی مدد سے "سامدرک کنڈلی” بنالے۔ یا اگر "ٹیوے” کی درستی اورریاضیاتی تصحیح درکار ہو تو وہ اس طریقے کی مدد حاصل کرے۔ لال کتاب میں سیارگان کے نتائج اسی "سامدرک کنڈلی” کے حوالے سے لکھے ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لال کتاب کے نتائج عام جوتش کی کنڈلی پر بھی لاگو کیے جاسکتے ہیں۔

اس مقام پر مصنف کو اس کی حق شناسی کی داد دینا چاہیے ۔ وہ ایمانداری سے قبول کرتا ہے کہ فلکیات کے مطابق بنائی گئی جنم کنڈلی یعنی اصلی تاریخ اور وقت پیدائش پرمبنی  زائچہ، اور سامدرک کے مطابق بنائی گئی متبادل کنڈلی میں فرق ممکن ہے۔ ایسی صورت میں جوتش کی مطابق بنائی گئی کنڈلی اس شخص کے موجودہ حالات، انفرادی کاوش اور ذاتی کامیابی ناکامی کا حال بتائے گی۔ جبکہ سامدرک کنڈلی اس کے آباواجداد سے ملی مثبت منفی صلاحیتوں اور خاندان اثرات کی آئینہ دار ہوگی۔

جہاں تک لال کتاب کی آسٹرولوجی کا تعلق ہے تو وہ کئی اقسام کے زائچوں کا مرکب پیش کرتی ہے

  • 1 ۔ سامدرک لال کتاب کنڈلی، جو ہاتھ کی لکیروں اور ابھاروں سے سیارگان اخذ کرکے بنائی جاتی ہے
  • 2 ۔ سامدرک لال کتاب ورش پھل کنڈلی، جو علامتی اوقات اور اعداد کے جمع تفریق سے بنائی جاتی ہے
  • 3 ۔ سامدرک لال کتاب مکان کنڈلی، جو پُشتینی مکان کے رُخ اور روایتی طرزِ تعمیر کا فلکی قیافہ ہے
  • 4 ۔ سامدرک لال کتاب کنڈلی، جو جوتش کے مطابق بنی جنم کنڈلی کی سادہ شکل ہے (بغیر بروج کے گھر)
  • 5 ۔ سامدرک لال کتاب چندر کنڈلی، جو چندر کنڈلی کو گھما پھرا کر بنائی جاتی ہے (بغیر بروج کے گھر)
  • 6 ۔ فلکی ریاضیات کے مطابق بنائی گئی جنم کنڈلی من وعن، عام معیاری زائچہ پیدائش (مع بروج اور گھر)
  • 7 ۔ جوتش کے مطابق بنائی گئی چندر کنڈلی من و عن، قمری برج سے زائچہ پیدائش

آج کے دور طالبعلم کے لیے ان مختلف النوع کنڈلیوں میں فرق کر پانا آسان نہیں۔ باوجودیکہ لال کتاب میں سامدرک کنڈلی بنانے کے لیے نوگرہ یعنی روایتی 9 سیارگان پر انحصار کیا گیا ہے۔ حسبِ روایت  اِن سیارگان کو زندگی کے مختلف اُمور،کردارں اور مقامات سے منسوب کیا گیا ہے ۔ لیکن سیارگان کی ترتیب عام جوتش سے تھوڑی مختلف ہے۔ جوتش کی سنسکرت، ہندی اور انگریزی کتب میں سیارگان کی عمومی ترتیب ہفت ایام پر مبنی نظر آتی ہے، جو یہ ہے: سورج شمس – چندر قمر – منگل مریخ – بدھ عطارد – گورو مشتری – شُکر زہرہ شنی زحل – راہو راس – کیتو ذنب۔

لیکن لال کتاب میں سیارگان کی ترتیب، مشتری برہسپت یعنی گورو سے شروع ہوتی ہے، جو کچھ اس طرح ہے:

برہسپت یعنی مشتری – سورج یعنی شمس – چندر یعنی قمر – شُکر یعنی زہرہ – منگل یعنی مریخ – بدھ یعنی عطارد – سنیچر یعنی زحل – راہو یعنی راس – اور کیتو یعنی ذنب۔

لال کتاب میں سیارگان کی مذکورہ بالا ترتیب، عام ہندی اور یونانی نجوم سے تھوڑی سی مختلف ہے۔ یہاں شمس سے پہلے مشتری ہے، اور قمر کے فوری بعد زہرہ ہے۔

علاوہ ازیں، یہ 9 سیارگان، ہر انسان کی زندگی کے خاص برس پر بھی حکمران ہیں۔

برہسپت یعنی مشتری:   سولھواں سال  Jup: 16th_year

سورج یعنی شمس:   بائیسواں سال Sun: 22nd_year

چندر یعنی قمر:   چوبیسواں سال Moon: 24th_year

شُکر یعنی زہرہ:     پچیسواں سال Ven: 25th_year

منگل یعنی مریخ: اٹھائیسواں سال Mar: 28th_year

بدھ یعنی عطارد:  چونتیسواں سال Mer: 34th_year

سنیچر یعنی زحل:  چھتیسواں سال Sat: 36th_year

راہو یعنی راس:  بیالیسواں سال Rah: 42nd_year

کیتو یعنی ذنب:  اڑتالیسواں سال Ket: 48th_year

سیارگان کی مذکورہ بالا ترتیب لال کتاب میں بیان کی گئی 35 سالہ مخصوص دَشا اور  120 سالہ مخصوص دَشا کی بھی بنیاد ہے۔ یہاں دَشا سے مراد ادوارِ حیات ہے۔ تاہم اس کے لیے مخصوص سال کے بجائے عمر کے دورانیے کو لیا جاتا ہے۔ اگر ان متعین برسوں کو باہم ملادیں تو زندگی کے دور دَشا کی صورت بن جائے گی۔

لال کتاب میں سیارگان کی فطری دوستی دشمنی کم و بیش روایتی ہندی نجوم جوتش کے مطابق ہے۔ تاہم راہو کیتو کی حیثیت بطور دوست سیارہ اور دشمن سیارہ زرا مختلف ہے۔ اس کے علاوہ مخصوص نظراتی استثنا سے بھی سیارگان کی فطری دوستی دشمنی بدل سکتی ہے۔

چونکہ لال کتاب میں طالع اور سیارگان کے قابض بروج (راشیوں) کا بنیادی کردار نہیں۔ اس لیے گھروں کے مالکان کا ویسے استعمال نہیں، جیسے عام زائچہ شناسی میں ہوتا ہے۔ روایتی جوتش میں کسی گھر کا مالک معلوم کرنے کے لیے لگن کی راشی یا اس گھر کی راشی معلوم ہونا چاہیے۔ کیونکہ گھر کے اندر موجود برج کا حاکم سیارہ  ہی اس گھر کا مالک کہلاتا ہے۔ جبکہ لال کتاب میں قارئین کو راشی نمبر 1،2،3،4،5،6،7،8،9،10،11،12 مِٹانے بلکہ بھول جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ لال کتاب کی لغت میں سیارے کا "گھر” اہم ہے۔ "راشی” یا "برج” sign اہم نہیں۔

لال کتاب میں گھروں کے مالکان کے بجائے "پکے گھر” کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ جوتش کے عنوان "بھاو کارک” Bhava-Karaka کی دیسی شکل ہے۔ روایتی ہندی نجوم میں پہلے گھر کا بھاو کارک سورج ہے، دوسرے گھر کا بھاو کارک گورو ہے، تیسرے گھر کا بھاو کارک منگل ہے، اسی طرح ہر گھر کے لیے بھاو کارک سیارہ مخصوص ہے۔ ہر زائچہ میں گھروں کی کل تعداد بارہ ہوتی ہے، جبکہ سیارگان صرف سات یا نو ہے۔ اس لیے کچھ چیندہ سیارگان ایک سے زائد گھروں کے بھاو کارک تسلیم کیے گئے ہیں۔ جیسے ہر زائچہ میں مشتری دوسرے گھر، پانچویں گھر اورگیارھویں گھر کا بھاو کارک ہے۔ بسا اوقات کسی ایک گھر سے کئی سیارگان بطور بھاوکارک بھی منسوب کیے جاتے ہیں۔

لال کتاب نے جوتش کے تصور "بھاو کارک” کے لیے ممکنہ طور "پکے گھر” کی ترکیب ایجاد کی ہے۔ کنڈلی کسی بھی نوعیت کی ہو، طالع لگن کچھ بھی ہو، پکا گھر نہیں بدلتا ۔ لال کتاب کے مطابق سورج پہلے پکے گھر کا مالک ہے۔ گورو یعنی مشتری دوسرے پکے گھر کا مالک ہے۔ منگل تیسرے پکے گھر کا مالک ہے۔ اگرچہ لال کتاب میں بارہ پکے گھروں سے منسوب سیارگان کے نام اور ترتیب، روایتی ہندی نجوم کے بھاو کارک سے ایک دو جگہ مختلف ہے۔ لیکن "پکے گھر” کے پس پردہ بھاو کارک کی تکنیک ہی ہے۔ چاہے جنم لگن طالع برج حمل ہو یا ثور ، جوزا یا سرطان، اسد ہو یا میزان۔ لال کتاب کے مطابق ہر کنڈلی میں سورج خانہ نمبر 1 کا مالک ہوگا۔ کیونکہ پہلا خانہ، سورج کا پکا گھر ہے۔ معیاری جوتش کی زبان میں سورج پہلے گھر کا بھاو کارک ہے۔ واضح رہے کہ یہاں نمبر 1 سے مراد برجِ حمل یعنی میکھ راشی نہیں ہے۔ اس کے بعد دوسرے پکے گھر یعنی خانہ نمبر 2 کا مالک گورو کو قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ گورو (مشتری) روایتی جوتش میں دوسرے گھر (دھن استھان) کا بھاؤ کارک ہے۔ واضح رہے کہ یہاں نمبر 2 سے مراد برجِ ثور نہیں ہے، بلکہ دوسرا گھر ہے۔ اسی طرح منگل کا پکا گھر اگلا تیسرا گھر کا ہے۔

قارئین کے لیے ایک اور کنفیوژن یہ کہ لال کتاب کے ابتدائی ایڈیشنوں اور آخری 1952 ایڈیشن میں دیے گئے پکے گھروں کے مالکان کی فہرست یکساں نہیں۔ جن ماہرین نے پانچوں لال کتابوں (تمام ایڈیشنوں) کا بغور مطالعہ کیا ہو، وہ یہ تضاد سمجھ سکتے ہیں۔

لال کتاب آسٹرولوجی بنیادی طور پر سیارگان کے گھروں میں قبضے، پکے گھروں کی ملکیت یعنی بھاؤکارک اور خاص نظرات کا کھیل ہے۔ عام طالبعلم کے لیے مسئلہ یہ کہ لال کتاب میں صرف روایتی جوتش کی معروف نظرات یعنی درشٹی استعمال نہیں کی گئی۔ بلکہ مختلف (دیسی بدیسی) مکاتبِ نجوم سے اخذ کردہ نصف درجن کے قریب مختلف نظرات کے طریقوں کا مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ لال کتاب میں سیارگان کی باہمی نشست و نظرات اور اسثتنا کو سمجھنا آسان نہیں۔

حیران کن طور پر لال کتاب میں نہ تو جوتش کے معیاری یوگ موجود ہیں۔ نہ ہی شڈبل کا حوالہ ہے۔ اور نہ نوانش اور باقی ورگوں کا ذکر ہے۔ اسی طرح لال کتاب میں اشٹک ورگ، ونشوتری دَشا، اور معیاری گوچر وغیرہ کی کوئی خاص وضاحت درج نہیں (ایک آدھ جگہ شنی ساڑھے ستی کا ذکر ہے)۔ شاید اس لیے کہ روایتی جوتش کی یہ بنیادی تکنیکیں، ریاضیاتی مشقت کی طلب گار ہیں۔ جبکہ لال کتاب، دست شناسی، قیافے اور آسان نجوم پر مبنی عام قارئین کے لیے ایک دیسی نسخہ ہے۔

لال کتاب سے منسوب غلط فہمیاں

اکیسویں صدی میں لال کتاب کی اچانک مقبولیت کے باعث  اس سے بہت سے غیر تاریخی  حقائق اورغیرمنطقی توہمات وابستہ کردیے گئے ہیں۔ چند عوامی غلط فہمیاں یہ ہیں۔

غلط فہمی: لال کتاب، خفیہ کالے علم اور تنتر پر مبنی ہے؟

حقیقت: یہ شوشہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے چھوڑا گیا۔ اس غلط فہمی کو پھیلانے والے چند نام نہاد پروفیشنل گورو (انڈین آسٹرولوجرز) تھے۔ جو آن لائن آسٹرولوجی گروپس چلاتے تھے۔ کئی امریکی اور یورپی گورے ان کے شاگرد تھے۔ جنھیں وہ "ویدک آسٹرولوجی” کے نام پر روحانی اُپائے اور پوچا پاٹ کے طریقے بھی بیچا کرتے تھے۔ جب گمشدہ لال کتاب کی سوفٹ کاپیاں اور انگریزی تراجم انٹرنیٹ پر عام ہوئے تو کئی کاروباری گوروؤں کے اُپائے کا دھندا، مندا ہوگیا۔ ان پنڈتوں کے شُدھ ستوک سناتن اُپائے کے خریدار کم ہونے لگے، تو مسابقت کی چال چلتے ہوئے یہ بات مشہور کردی گئی کہ لال کتاب،  کالے علم یعنی "وام چار تنتر” پر مبنی ہے۔ اسے ہاتھ نہ لگاؤ ورنہ سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ کچھ خوفزدہ چیلوں نے تو لال کتاب کو Book of Demon  یعنی "شیطانی کتاب” کا خطاب دے ڈالا، جو سراسر زیادتی ہے۔

ان سب حربوں کے باوجود لال کتاب اپنے آسان اُپائے اور انوکھے اصولوں کی وجہ سے دن بدن مقبول ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ لال کتاب کی گونج امریکا اور یوروپ تک پہنچ گئی۔

جب ڈیمانڈ طلب بڑھتی ہے تو سپلائی رسد خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ انڈیا کے کئی مقامی جوتشیوں نے لال کتاب کی شہرت کو اچھا کاروباری موقع جانتے ہوئے، اسے دل وجان سے اپنا لیا۔ پنڈتوں نے پلٹا مارا۔ حتیٰ کہ اسے "پراچین بھارتیا جوتش” کا خفیہ خزانہ قرار دے ڈالا۔ بھارت میں تو کئی یوٹیوب جوتشی، راتوں رات لال کتاب اسپیشلسٹ بن گئے۔ لال کتاب کے نام سے ناصرف ویب سائٹس، مشاورتی آفس اور لرننگ اسکول کھل گئے، بلکہ لال کتاب فرنچائز بھی نمودار ہوگئیں۔

کچھ ایسا ہی کام پاکستانی پروفیشنل نجومیوں اور آسٹرولوجی میگزین اور جنتریاں چھاپنے والوں نے بھی جلی خفی انداز میں کیا۔ یعنی وظائف، لوح اور پتھروں کے ساتھ لال کتاب کے ٹوٹکے بھی اسلامی روحانی بتا کر بیچنے لگے۔ بعد میں کچھ آسٹرولوجر تائب ہوگئے، اور باقی مایوس۔

سن 2005 سے 2015 تک لال کتاب، پروفیشنل آسٹرولوجی کی دنیا میں انمول کاروباری موقع رہا۔ تاہم سن 2020 سے (کورونا کے عالمی وبائی جھٹکے کے) بعد سے عوام کی دلچسپی لال کتاب کے ٹوٹکوں میں کچھ کم ہوگئی ہے۔

غلط فہمی: لال کتاب اردو مسلم نجوم پر مبنی ہے؟

حقیقت: یہ غلط فہمی عام انڈین آسٹرولوجی سیکھنے والے بھارتیوں میں آج بھی موجود ہے۔ جس کی ممکنہ وجہ یہ کہ لال کتاب کے تمام ایڈیشن اردو زبان میں شائع ہوئے۔ ایسے معصوم دعوے دار یہ نہیں جانتے کہ اردو پڑھنے، لکھنے اور سمجھنے کے لیے مسلمان ہونا شرط نہیں۔ زبان کا جغرافیہ اہم ہوتا ہے، عقیدہ نہیں۔ تقسیم ہند سے قبل، اردو لکھنے پڑھنے والوں میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی شامل تھے۔ اٹھارویں سے انیسویں کے وسط تک یوپی، دلی، لکھنؤ، دکن، پنجاب اور کشمیر میں عام غیر مسلم بھی اردو میں خط و کتابت کرتے تھے۔ اگرچہ ان کی مقامی مادری زبانیں مختلف تھیں، لیکن تحریر اور اشاعت کے لیے اردو کو فوقیت دی جاتی تھی۔ واضح رہے کہ اردو زبان میں تحریر لال کتاب، جوتش کی پہلی کتاب نہیں، جسے کسی ہندو نے تصنیف کیا ہو۔ اس سے پہلے انیسویں صدی 1801-1900 کے دوران شائع ہونے والی اردو کی کئی جوتش کتب کے حوالے موجود ہیں، جنھیں ہندوؤں نے خود تصنیف اور تالیف کیا۔ ان میں کئی قدیم اردو کتب میری اپنی لائبریری میں موجود ہیں۔ اردو لکھنے پڑھنے کے لیے مسلمان ہونا یا عرب-ایرانی-ترک نسلی پس منظر رکھنا ضروری نہیں۔

ایک اور مفروضے کے مطابق لال کتاب پرانے لاہور کے ایک علاقے کی کھدائی سے ملنے والی تانبے کی قدیم پتریوں پر مبنی نسخہ تھا، جس میں مسلم نجوم کے راز پوشیدہ ہیں۔ یہ پتریاں گردھاری لال شرما تک پہنچیں اور انھیں نے اس کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ اگر تحقیق کی عینک سے دیکھیں تو یہ کہانی بھی بے معنی معلوم ہو گی۔ جو ایسا دعویٰ کرتے ہیں، انھوں نے خود کبھی قدیم عرب فارس نجوم Perso-Arabic Astrology کی کسی کتاب کو نہیں پڑھا ہوگا۔ یقین نہ ہو تو ایسے دعوے داروں سے عربی نجوم کی دو چار قدیم کتابوں نے نام پوچھ لیجیے۔ کتاب چھوڑیے، ان سے فارس-عرب نجوم کی دو چار بنیادی تکنیکوں کے صرف نام ہی دریافت کرلیں۔ بات گول کرجائیں۔ یا کہیں کہ ہم نے یوٹیوب کی وڈیو پر سنا تھا، یا فیس بک کی پوسٹ میں پڑھا تھا۔

تاریخی طور عرب فارس نجوم ساتویں صدی سے تیرھویں صدی سقوطِ بغداد تک عروج پر رہا۔ اس کا مرکز جزیرۃ العرب سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں نہیں تھیں۔ بلکہ موجودہ عراق، مصر، شام، قرطبہ اور وسطی ایشیا کے متمدن شہری علاقے تھے۔ یہ دراصل قدیم یونانی نجوم Hellenistic/Greek کے تراجم اور ساسانی Sassanian روایات پر مبنی تھا۔ عرب فارس نجوم، یونانی دائرۃ البروج tropical-zodiac استعمال کرتا ہے، ہندی دائرۃ البروج sidereal-zodiac نہیں۔ اس کے علاوہ فارس- عرب نجوم کی تکنیکیں، ہندوستانی جوتش سےکافی الگ ہیں۔ لال کتاب کے کسی ایڈیشن میں صراحت سے عرب فارس مسلم نجوم موجود نہیں، ماسوائے "نظراتِ سیارگان”کی درجہ بندی کے اور "ادوارِ سیارگان” کی ترتیب کے۔ لال کتاب میں دیسی انڈین پامسٹری کی روایات سے متعلق کام کی کئی باتیں ہیں۔ لیکن اسے گمشدہ مسلم نجوم کا خزانہ قرار دینا درست نہیں۔ اگر کسی کو واقعی عرب فارس نجوم کے مطالعے کا شوق ہے تو وہ عمرالطبری، الکندی، ابومعشر، ابوبکر، ابوعلی، سہل بن بشر، الرجال، اور البیرونی کی کتب کا بغور مطالعہ کرے۔

غلط فہمی: لال کتاب، تاجک آسٹرولوجی پر مبنی ہے؟

حقیقت: یہ خام خیالی بھی درست نہیں۔ اگرچہ لال کتاب میں کئی جگہ "ورش پھل کنڈلی” سالانہ زائچوں کا حوالہ اور مثالیں موجود ہیں۔ لیکن لال کتاب کا ورش پھل سالانہ زائچہ تاجک ورش پھل نہیں۔ لال کتاب کے سالانہ زائچہ میں، تاجک آسٹرولوجی کے 16 یوگ، پنچ ورگیابل، تربیع، تثلیث و تسدیس کی نظرات بلحاظ درجات، سہائم، منتہا وغیرہ شامل نہیں ہیں۔

برصغیر میں "تاجک آسٹرولوجی” سے مراد نجوم کی وہ مقامی شاخ ہے جو "سالانہ زائچہ” اور کچھ حد تک "وقتی زائچہ” کا احاطہ کرتی ہے۔ تاجک جوتش شاستر، دراصل فارس- عرب مسلم نجوم ہی کی مسخ شدہ ہندوستانی شکل ہے۔ یہ علم نجوم، مسلم حملہ آوروں اور مغلوں کے ہمراہ ہندوستان آیا۔ پندرھویں سے اٹھاوریں صدی کے دوران ہندو جیوتشیوں میں اسے کافی پزیرائی ملی۔ جب ہندوستان میں مغل حکمرانوں کے دربار میں مقامی ہندو پنڈت اور مسلم (ایرانی، ترک، ہندوستانی) علما و حکما ایک ساتھ موجود ہوا کرتے تھے۔  

لال کتاب میں موجود سالانہ زائچہ، کسی طور تاجک آسٹرولوجی نہیں۔ نہ اس کی ریاضیاتی تخمین تاجک ہے۔ نہ اس کے اصول تاجک ہیں۔ اور نہ اس کی پیش گوئی کی تکنیک تاجک ہیں۔ اگرچہ لال کتاب میں موجود "نظر اتِ سیارگان "کی جدول میں "تثلیث” اور "تسدیس” کو  جگہ دی گئی ہے، لیکن یہ تاجک آسٹرولوجی کی طرح بلحاظِ درجات نہیں۔

لال کتاب کا سالانہ زائچہ بنانے کا طریقہ دیسی حساب کتاب کے ٹیبل پر مبنی ایک شارٹ کٹ ہے۔ لال کتاب کے ورش پھل کے مطابق راہو کیتو کسی برس ایک ساتھ ایک ہی گھر میں آسکتے ہیں جو فلکیاتی طور پر ناممکن ہے۔ اسی طرح کسی سالانہ زائچہ میں سورج اور بدھ ایک دوسرے کے مقابل آمنے سامنے آسکتے ہیں جو فلکیاتی طور ناممکن ہے۔ لال کتاب کا ورش پھل دیسی انداز کا symbolic-progression-of-houses  ہے۔

غلط فہمی: لال کتاب فطری برجی زائچہ پر مبنی نجوم ہے؟

حقیقت: برج حمل کو نام نہاد فطری زائچہ کا پہلا گھر سمجھ کر باقی بروج کو بالترتیب گھروں کے مساوی ٹھہرانے کا طریقہ دورِ جدید کی اُپچ ہے۔ یہ امریکی طریقہ برجوں کی کتاب میں سن سائن کے خواص بیان کرنے کے لیے اکثر استعمال ہوتا ہے۔ اسی کو آجکل بھارتیوں نے کال پُرش کنڈلی کا نام دیا ہوا ہے۔ زائچہ پیدائش کی حد تک یہ روایت نہ تو قدیم جوتش ہندی نجوم کا حصہ ہے، نہ تو عرب فارس مسلم نجوم کا خاصہ ہے۔ بلکہ قدیم یونانی نجوم کے مستند ماخذوں میں اس کی کوئی خاص نظیر نہیں ملتی۔ فطری زائچہ کا استعمال، علم نجوم میں چند اہم اصول و قواعد سمجھانے کی غرض سے ضرور موجود رہا ہے۔ تاہم اس کا عملی اطلاق قدیم ساسانی نجوم میں صرف عالمی نجوم کی تکنیکوں خصوصاً قراناتِ عظیم Great-Conjunctions کی تشریح تک محدود تھا۔

بیسویں صدی کے ابتدامیں رفائل Raphael، سیفاریئلSepharial، کیرو Cheiro اور ایلن لیو Alan Leo کی کتابیں نہ صرف یوروپ بلکہ ہندوستان بھر میں مقبول تھیں۔ یہ سب قابل ماہرین تھے۔ لیکن انھوں نے عوام کے سہولت کے لیے جو کتابیں اور آرٹیکل لکھے ان میں سے بیشتر صرف ویسٹرن سن سائن sun-sign اور بارہ بروج کی خصوصیت پر مشتمل تھے۔ جب ویسٹرن آسٹرولوجی اور پامسٹری کی کتابیں ہندوستان آنے لگیں تو یہاں کی جنتریوں اور نجوم کی مقامی کتابوں پر اس کا لامحالہ اثر پڑا ۔ حتیٰ کہ مرحوم کاش البرنی کی تحریریں اور لال کتاب بھی ماڈرن ویسٹرن آسٹرولوجی اور سن سائن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

گذشتہ صدی کے سن 30 اور 40 کی دہائی سے سن سائن پر مبنی پیش گوئیوں کے کالم یوروپی رسائل کی زینت بننے لگے۔ برطانوی ماہر نجوم رچرڈ نےلر Richard_Naylor کے مقبول اخباری کالموں کے بعد یہ روایت ویسٹرن آسٹرولوجی کا ناگزیر حصہ بن گئی۔ تاہم لال کتاب کسی طور سن سائن آسٹرولوجی نہیں۔ اور نہ ہی فطری زائچہِ بروج (نیچرل ہورواسکوپ) پر مبنی ہے۔

لال کتاب کئی اقسام کے زائچوں کا مرکب پیش کرتی ہے، جس میں سامدرک کنڈلی، سامدرک ورش پھل کنڈلی اور جوتش کے مطابق بنائی جنم کنڈلی سرفہرست ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی طریقہ، فطری زائچہ حمل پر مبنی نہیں ہیں۔ چونکہ دست شناسی اور قیافہ شناسی سے اخذ کردہ سامدرک کنڈلی میں بروج کا ویسا تصور نہیں۔ اس لیے سہولت کی خاطر، سامدرک کنڈلی میں راشنی نمبر کی جگہ خانہ نمبر گھر نمبر لکھ دیا جاتا ہے۔

لال کتاب میں فطری زائچہ حمل کا حوالہ اصولوں کو سمجھنے کی حد تک موجود ہے۔ لیکن گھروں کی منسوبات اور سیارگان کے نتائج اس پر منحصر نہیں۔ حمل سے دائرۃ البروج کی بارہ راشیاں، سیارگان کی باہمی دوستی اور دشمنی وغیرہ کی مخصوص صورتحال یا مشکوک راشی پھل جاننے کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔ فطری زائچہ حمل کی ترتیب سے بارہ بروج کے مالکان کا ایک اور مشروط استعمال "سوئے گرہ” کو "جگانے” والے کے طور پر کیا گیا ہے۔ کنڈلی کو طالع حمل سے پڑھنے کے لیے نہیں کیا گیا۔ یہ وہ لطیف فرق ہے، جسے عام طالبعلم تو کیا، اچھے بھلے اساتذہ بھی بھول جاتے ہیں۔

لال کتاب کے مصنف نے کئی مقامات پر صراحت سے کہا ہے کہ کنڈلی کے اندر موجود نمبر 1، 2، 3، ۔۔۔ سے مراد راشی نمبر sign-number نہیں، بلکہ گھر نمبر house-number ہے۔ بالفرض اگر آپ اپنے زائچہ پیدائش جنم لگن کنڈلی سے راشیوں کے تمام نمبر 1،2،3، ۔۔۔ مِٹا دیں، اور سیارگان کو اُن کے گھروں میں ایسے ہی رہنے دیں۔ تب بھی یہ "سامدرک لال کتاب کنڈلی” کی طرح ہوجائے گی۔

لال کتاب، یہ نہیں کہتی کہ جوتش یعنی حقیقی تاریخ اور وقت پیدائش کے مطابق بنی جنم لگن کنڈلی کو گھما کر برج حمل راشی نمبر 1 سے دیکھا جائے۔ یہ لال کتاب کا طریقہ نہیں۔ جن احباب نے لال کتاب کا بغور مطالعہ نہیں کیا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔

غلط فہمی: لال کتاب اُپائے یعنی حل المسائل کی کتاب ہے؟

حقیقت: یہاں سوال یہ نہیں کہ لال کتاب کے اُپائے حقیقی زندگی میں کارآمد ہیں یا نہیں۔ بلکہ لال کتاب کی شناخت سے متعلق عوامی تاثر ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لال کتاب کے آخری یعنی 1952 کے ایڈیشن میں جابجا ٹوٹکے اور اُپائے بکھرے ہیں (جو کہ لال کتاب کے سابقہ ایڈیشنوں میں موجود نہیں تھے)۔ اگر آپ ان ریمیڈیز کا، کتاب میں موجود دیگر علمی مواد سے موازنہ کریں تو یہ شاید مجموعی ضخامت کا ایک چوتھائی بھی نہیں۔ بلکہ لال کتاب کے ابتدائی تین ایڈیشن تو اُپائے کا خفیف انداز سے تذکرہ کرتے ہیں۔ چوتھے اور پانچویں ایڈیشن میں اُپائے تحریر ہیں۔

بطور مجموعی لال کتاب کو محض اُپائے کا مجموعہ کہنا زیادتی ہوگی۔ کتاب کے اصل سرورق یا تعارفی صفحات اور اندرونی صفحات میں مصنف یا پبلشر کا ایسا کوئی دعویٰ درج نہیں۔ بلکہ مصنف تو جابجا اسے سامدرک پامسٹری کی کتاب قرار دیتا ہے۔ جو تکنیکی طورپر درست بات ہے۔ لیکن آج، لال کتاب کے مصنف کی سننے والا کوئی نہیں۔ کیونکہ یہاں معاملہ کتاب کے اصل موضوع سے زیادہ، قارئین کی "ضرورت” کا ہے۔ اور ضرورت، ایجاد کی ماں ہے۔ اس لیے لال کتاب، ٹوٹکوں اور اُپائے کے حوالے سے مشہور ہوگئی۔

لال کتاب 1952 کے بعد سے طویل عرصہ آؤٹ آف پرنٹ رہی۔ ابھی اکیسویں صدی کے ابتدائی عشرہ میں گمشدہ لال کتاب کا دوسرا جنم ہوا ہے۔ اِس سے قبل بہت ہی کم نجومیوں کو لال کتاب کے وجود کا علم تھا۔ غالباً سن 1982 میں ایک انگریزی میگزین میں لال کتاب سے متعلق سنسنی خیز آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ اس آرٹیکل کی اشاعت کے بعد برصغیر میں گمشدہ لال کتاب کی ڈھونڈ مچ گئی۔ کچھ عرصے بعد لال کتاب کا ایک اردو نسخہ، بھارتی پنجاب سے دوبارہ نمودار ہوا، تو اس کی فوٹو کاپیاں مہنگے داموں فروخت ہونے لگیں۔ سن 90 کی دہائی تک لال کتاب کی فوٹو کاپیاں چند تجربہ کار نجومیوں کی پہنچ میں آگئیں۔ اُس وقت تک عام طلبہِ نجوم لال کتاب سے ہنوز بےخبر تھے۔

سن 2000-2001 کے بعد سے لال کتاب کے کچھ حصوں کا انگریزی ترجمہ سامنے آنے لگا۔ پھر پوری کتاب کی عکسی نقول اور سافٹ کاپیاں انٹرنیٹ پر نمودار ہونے لگیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے عوام و خواص میں لال کتاب کی دھوم مچ گئی۔ یہ کہا جائے کہ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ لال کتاب، کسی فلم کی طرح ہِٹ ہوگئی تو غلط نہ ہوگا۔ مقبولیت کی بنیادی وجہ لال کتاب میں موجود ٹوٹکے اور بنے بنائے اُپائے تھے۔ یہ وہی کتاب تھی جیسے سن 1940 اور 1950 کی دہائی میں کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ لیکن اب وہی دنیا اُپائے کی کھوج میں تھی۔ مختصر یہ کہ لال کتاب، اکیسویں صدی کے پروفیشنل آسٹرولوجر کے لیے پارس پتھر کی طرح قیمتی بن گئی۔

میرے رائے میں اس کی وجہ سماجی فکر اور طبقاقی ڈھانچے میں تبدیلی بھی ہے۔ پرانے وقتوں میں ٹونے، ٹوٹکے، اُتارا، دم درود، منترپڑھائی وغیرہ کا کام مخصوص باباجی، پیر فقیر، مولوی صاحب یا پنڈت جی کیا کرتے تھے۔ نجومی نہیں۔ لیکن جب وقت نے کروٹ لی تو ان میں سے کچھ بابا جی اور پنڈت جی، سیاست میں آگئے۔ باقی ماندہ پیروں اور پنڈتوں سے شہری عوام خود بیزار ہوگئے۔ اب یہ خالی جگہ کیسے پوری ہوتی۔ لامحالہ "اُپائے کا کام” نئے دور کے پروفیشنل نجومیوں نے سنبھال لیا۔  اکیسویں صدی کے لیپ ٹاپ آسٹرولوجر کے پاس سب کچھ تھا۔ بس "ریڈی میڈ اور سیکولر اُپائے” نام کی چڑیا نہ تھی۔ ایسے سیکولر ٹوٹکے جس پر کسی (ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، شیعہ، سنی، وہابی، شہری، دیہاتی) کلائنٹ کو اعتراض نہ ہو۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے لال کتاب سے صرف اُپائے کا خلاصہ کشید کر کے آزمانا شروع کردیا۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری، اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اسی لیے آپ دیکھیں گے انٹرنیٹ کی بیشتر ویب سائٹس اور موبائل ایپس میں لال کتاب کے نام سے صرف اور صرف "اُپائے” کا خام خلاصہ موجود ہے۔ مکمل کتاب، طباعت شدہ یا عکسی نقل کی صورت میں شاید ہی کہیں نظر آئے۔ وجہ یہ کہ لال کتاب کے مکمل متن کو پڑھنے سمجھنے کی کوئی زحمت نہیں کرتا۔ کیونکہ آج کے پروفیشنل آسٹرولوجر کے پاس فرصت نہیں۔ اور عام کلائنٹ کو علم سے زیادہ اپنے مسائل کے فوری جادوئی حل کی تلاش ہے۔

تحریر:          محمد عمران۔ 2020

Tags: AstrologyFallaciesLal KitabRemedies
ShareTweet
Previous Post

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بلڈ مون: عالمی سیاست پر ایک نجومی تناظر

Muhammad Imran

Muhammad Imran

Astrology researcher, writer and analyst from Karachi (Pakistan). Web: www.astroimran.com Mobile: +92 333 2463111

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Trending
  • Comments
  • Latest
what-is-horoscope-or-chart

زائچہ کیا ہوتا ہے؟

ستمبر 6, 2026
نجومِ رجوع اور وقتی زائچہ

نجومِ رجوع اور وقتی زائچہ

ستمبر 6, 2026
birth-time-rectification

تصحیح وقتِ پیدائش – برتھ ٹائم ریکٹی فیکیشن

ستمبر 6, 2026
آسٹرولوجی اور پتھر کے صنم

آسٹرولوجی اور پتھر کے صنم

ستمبر 6, 2026
what-is-horoscope-or-chart

زائچہ کیا ہوتا ہے؟

4
آسٹرولوجی اور پتھر کے صنم

آسٹرولوجی اور پتھر کے صنم

4
mundane-astrology-in-pakistan

منڈین آسٹرولوجی اور اس کی مشکلات

3
what astrology is not

نجوم کیا نہیں ہے؟

2
لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

اکتوبر 22, 2026
کامیابی اور زائچہ کا تعلق

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بلڈ مون: عالمی سیاست پر ایک نجومی تناظر

ستمبر 6, 2026
US Election 2024

امریکی صدارتی الیکشن اور علم نجوم

ستمبر 6, 2026
زائچہ میں پہلا گھرکا تجزیہ

زائچہ میں پہلا گھرکا تجزیہ

ستمبر 6, 2026

أخبار حديثة

لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

لال کتاب اور اس سے منسوب غلط فہمیاں

اکتوبر 22, 2026
کامیابی اور زائچہ کا تعلق

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بلڈ مون: عالمی سیاست پر ایک نجومی تناظر

ستمبر 6, 2026
جنتری

جنتری اردو زبان میں پہلی آن لائن تقویم ہے جو علم نجوم، تقویم سیارگان، دست شناسی، نگینے اور ان کے خواص کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔

زمرے

  • برج
  • تعلیم
  • دماغی علوم
  • زائچے
  • عالمی نجوم
  • متبادل شفا یابی
  • نجومیات
  • نگینے اور ان کے خواص

ٹیگز

Astrology Fallacies History Lal Kitab Remedies Zodiac ، چاند گرہن آسٹرولوجی اتصال انصراف المتميز انٹرنیٹ اپائے برتھ ٹائم ریکٹی فیکیشن برج دلو تصحیح وقت پیدائش حل المسائل زائچہ زحل سوال سورج گرھن سورج گرہن سیاسی زائچہ عطارد علم نجوم لونر چارٹ لکی اسٹون ماہانہ قمری زائچہ مبارک پتھر متبادل شفا یابی مریخ مشتری منڈین آسٹرولوجی مون چارٹ نجوم رجوع نجوم عالم وقتی زائچہ ٹیکنالوجی پاکستان چارٹ چاند گرھن کورونا وائرس گرہن ہوای عنصر ہورواسکوپ یورنیس
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • ہمارے لیے لکھیں
  • ہوم

© 2017 جنتری - پہلی اردو آن لائن تقویم۔

No Result
View All Result
  • Blog
  • Contact US
  • Home
  • الصفحة الرئيسية 2
  • الصفحة الرئيسية 3
  • الصفحة الرئيسية 4
  • الصفحة الرئيسية 5
  • صفحہ اول
  • ہمارے لیے لکھیں

© 2017 جنتری - پہلی اردو آن لائن تقویم۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In