زائچہ میں پہلا گھرکا تجزیہ
زائچہ میں گھروں کا تجزیہ کر نے کےلئے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ پیدائشی زائچہ کے ساتھ ساتھ زائچہ نہ بہرہ یعنی نوانش کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ زائچہ کے کسی بھی گھر کا تجزیہ کرتے ہوئےمندرجہ ذیل عوامل کو مدنظر رکھنا چاہئے:
1۔ گھر کے حاکم کی قوت و ضعف، نظرات اور زائچہ میں موجودگی۔
2۔ گھر کی قوت و ضعف۔
3۔ گھر، اس کے حاکم، اس میں موجود کواکب اور اس گھر پر ناظر کواکب کی فطری خصوصیات۔
4۔ کیا فطری منسوبات کسی اثر و رسوخ کے وجہ سے تبدیل تو نہیں ہو گئے بلخصوص کسی یوگ کے بننے سے۔
5۔ گھر کے حاکم کی حالت شرف و ہبوط بھی اہمیت کی حامل ہے۔
6۔ صاحب زائچہ کی عمر، مقام ، شہریت، جنس بھی اہمیت کی حامل ہے۔
7۔ ہر برج میں کچھ کواکب باقوت یا کمزور ہوتے ہیں، مثال کے طور پر برج حمل میں پیدا ہونے والوں کے لیے شمس قوی ہوتا ہے۔مریخ اور شمس کے درمیان تعلق بہت اہم ہے اور ان دونوں کواکب کے تعلق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔کسی بھی نتیجے سے پہلے ان سب کو صحیح طریقے سے تولنا ضروری ہے۔اگر گھر کا حاکم با قوت ہو تو عام طور پر گھر کے نتائج اچھے ہوتے ہیں۔
آئیں ایک زائچہ کے مثال سے سمجھتے ہیں کہ پہلے گھر اور اس کی منسوبات کو کیسے پڑھتے ہیں:

اس مثالی زائچہ میں حاکم طالع زہرہ ہے اور زہرہ فطری سعد ستارہ ہے اور آٹھویں گھر میں موجود ہے جس کا حاکم مشتری ہے (حالانکہ مشتری زہرہ کا فطری دشمن ہے) لیکن چونکہ مشتری فطری سعد کواکب ہے تو حاکم طالع کی مشتری کے گھر میں موجودگی سعد ہے۔حاکم طالع کی آٹھویں گھر میں موجودگی کی وجہ سے صاحب زائچہ نہایت زیرک شخص تھے۔ زائچہ نہ بہرہ یعنی نوانش میں حاکم طالع بیت الطالع کو ناظر ہے لہذا سعد آمر ہے ، مشتری (جو کہ نویں گھر کا حاکم ہے) طالع میں موجوہے ، زحل شرف میں ہے اورطالع کو پورن نظر سے ناظر ہے ساتھ ہی شمس ہبوط زدہ ہوکر طالع کو ناظر ہے لہذا پہلا گھر کافی باقوت ہے۔ زائچہ نہ بہرہ یعنی نوانش کے طالع کا حاکم زہرہ اور زائچہ نہ ہ بہرہ یعنی نوانش کا طالع دونوں منقلب برج ہے لہذا صاحب زائچہ نے کئی وسیع سفر کیے۔ صاحب زائچہ کا قد درمیانہ تھا البتہ رنگت گوری تھی ( زہرہ – حاکم طالع اور مریخ – حاکم طالع نہ بہرہ دونوں گورے رنگ سے منسوب ہیں) چونکہ مریخ طالع کو پورن نظر سے ناظر ہے لہذا صاحب زائچہ پر مریخ کی منسوبات حاوی تھی ۔

اس مثالی زائچہ میں طالع کا حاکم زحل برج ثور (جو کہ زحل کی دوست زہرہ کا برج ہے) میں چھٹے گھر کے حاکم قمر کے ساتھ موجود ہے اور مشتری سے ناظر ہے۔ طالع کو عطارد، زہرہ، زحل اور مریخ ناظر ہیں۔ زائچہ نہ بہرہ میں طالع نہ بہرہ کا حاکم زحل ہبوط زدہ ہے اور طالع نہ بہرہ کو مریخ ناظر ہے لہذا طالع پر زحل کا اثر دیگر کواکب سے زیادہ نمایاں ہے تو صاحب زائچہ کی جسمانی خصوصیات پر زحل کی منسوبات حاوی ہیں اور صاحب زائچہ لمبا، دبلا، جسم پر بالوں کی افزائش زیادہ ہے اور ساتھ رنگت گوری ہے چونکہ طالع کو مریخ اور حاکم طالع کو مشتری ناظر ہے۔ حاکم طالع چونکہ فطری طور پر نحس کواکب ہے اور قمر کے ساتھ حالت قران میں ہے لہذا صاحب زائچہ کو صحت کے مسائل کا سامنا ہوگا البتہ بیماری کے تشخیص کے چھٹے گھر کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
اب ہم یہ دیکھیں گے کے پہلے گھر کی منسوبات سے متعلق نتائج کب ملیں گے؟ پہلا گھر جسم، عام صحت، بچپن اور شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ البتہ پہلا گھر کے نتائج اخذ ہمیں مندرجہ ذیل پر غور کرنا ضروری ہے۔
خواہ صاحب زائچہ کےلئے حاکم طالع کی دشاء باعث کامیابی و کامرانی ہونے کا امکان ہے یا نہیں ۔ پہلے گھر سے متعلق واقعات کی تشخیص کے لئے، درج ذیل عوامل کو احتیاط سے نوٹ کریں:
1۔ حاکم طالع
2۔ طالع سے ناظر کواکب
3۔ طالع میں موجود کواکب
4۔ حاکم طالع کو ناظر کواکب
5۔ وہ کواکب جن کا تعلق حاکم طالع سے ہو۔
یہ بنیادی پانچ محرکات طالع سے متعلق حالات و واقعات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اپنی مہاء دشا ءاو ر انتر د دشا ء میں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی دشائیں جن میں مہاء دشا ءاو ر انتر د دشا ء دونوں کے حاکمان طالع سے متعلق ہیں اس دشاء میں بنیادی طور سے صاحب زائچہ کو طالع سے متعلق نتائج ملتے ہيں حلانکہ وہ ایسی دشائیں جس میں انتر دشاء کے حاکم طالع سے متعلق ہیں البتہ مہاء دشاء کے حاکم طالع سے متعلق نہ ہوں اس دشاء میں صاحب زائچہ کو طالع سے متعلق نتائج صرف ایک محدود حد تک ملتے ہیں۔
آئیں ایک زائچہ کے مثال سے سمجھتے ہیں :

مندرجہ کواکب اپنی مہاء دشا ءاو ر انتر د دشا ء میں طالع کے نتائج دیں گے :
1۔ حاکم طالع – زحل
2۔ وہ کواکب جو طالع کوناظر ہیں: زحل، مریخ، زہرہ اور عطارد۔
3۔ طالع میں کوئی کواکب نہیں ہے۔
4۔ کواکب جو حاکم طالع کو ناظرہیں: مشتری۔
5۔ کواکب جو حاکم طالع سے مقرن ہیں: قمر۔
دئیے گئے مثالی زائچہ میں زحل، مریخ، عطارد، زہرہ، مشتری اور قمر اپنی مہاء دشا ءاو ر انتر د دشا ء میں طالع سے متعلق اثرات دیں گے۔چونکہ اس زائچہ میں لمبی عمر ہونے کی نشانی ہے لہذا صاحب زائچہ مریخ، مشتری، زحل اور عطارد اپنی مہاء دشا ءاو ر انتر د دشا ء میں طالع سے متعلق اثرات دیں گے جبکہ زہرہ صرف اپنی انتر دشاء میں طالع سے متعلق اثرات دیگا۔ مندرجہ بالا کواکب میں سے زحل حاکم طالع ہونے کے ساتھ ساتھ طالع کوناظر بھی لہذا زحل باقوت انداز میں طالع کے متعلق اثرات دیگا۔ اس زائچہ میں مریخ کے طالع سے متعلق اثرات کا جائزہ لیتے ہیں؛ مریخ کی مہاء دشاء جولائی 1917 جولائی 1925 تک رہے گی جس میں زحل کی انتر دشاء دسمبر 1920 سے جنوری 1922 تک رہے گ۔ اس دوران دونوں مہاءو انتر دشاء حکام طالع سے منسلک ہیں لہذا صاحب زائچہ کو اس دشاء میں طالع کی منسوبات سے متعلق نتائج ملیں گے۔ ستارہ زہرہ کی انتر دشاء میں جون 1923 سے اگست 1924 تک رہے گی ، ستارہ زہرہ حاکم مہاء دشاء مریخ کے ساتھ ہے اور طالع کوناظر ہے اور چوتھے گھر کا حاکم ہے ( چوتھا گھر – والدہ اور خوشوں سے منسوب ہے) لہذا اس انتر دشاء میں صاحب زائچہ کی والدہ کا انتقال ہو ا اور جس کی وجہ سے صاحب زائچہ کو دکھ اور صدمہ پہنچا۔

طالع : طالع برج جدی ہے، طالع سے کوئی ستارہ ناظر نہیں اور نا ہی کوئی ستارہ طالع میں موجود ہے جوکہ نیک شگن ہے۔ زائچہ نہ بہرہ میں طالع کو مشتری ناظر ہے جو کہ سعدعلامت ہے لہذا طالع معتدل طاقت کا حامل ہے۔
حاکم طالع: حاکم طالع زحل آٹھویں گھر میں دشمن کے برج میں ہےاور قمر سے ناظر ہے (اس زائچہ میں قمر نحس ہے)۔ زائچہ نہ بہرہ میں زحل مشتری کے ساتھ دوست ستارہ زہرہ کے برج میں ہے لہذہ زحل معتدل قوت کا حامل ہے۔
طالع کا کارک ستارہ : شمس طالع اور جسم کا کارک ہے۔ شمس پیدائشی زائچہ اورزائچہ نہ بہرہ دونوں میں برج میزان میں موجود ہے جو کہ شمس کا ہبوط کا برج ہے لہذا شمس قدر کمزور ہے۔
مشتری جوکہ طالع نہ بہرہ اور حاکم طالع سے متعلق ہے لہذا مشتری کی دشاء میں صاحب زائچہ کو طالع سےمتعلق نتائج ملے ۔ چونکہ مشتری تیسرے اور بارہویں گھر کا حاکم ہے اور تیسرے گھر میں ہے لہذا خصوصی نحس ہے جس کی وجہ سے صاحب زائچہ کو مشتری کی دشاء میں صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

اس زائچہ میں طالع برج میزان ہے اور کوئی کواکب طالع کو ناظر نہیں ہے۔ شمس (گیارہویں گھر کا حاکم) طالع میں ہبوط زدہ ہے مگر شمس کی حالت ہبوط کی نفی ہو رہی ہے ۔ شمس دو سعد کواکب یعنی عطارد اور مشتری کے درمیان ہے جو کہ شبھ کرتری یوگ بنا رہا ہے جو کہ سعد آمر ہے۔ زائچہ نوانش میں بھی کو کواکب طالع کو ناظر نہیں ہے البتہ طالع نحس راہو اور زحل کے درمیان ہے لہذا پاپا کرتری یوگ بن رہا ہےجوکہ نحس ہے۔ ان تمام دلائل کی بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ طالع مضبوط ہے۔
اس زائچہ میں حاکم طالع زہرہ بارہویں گھر میں ہے اور ہبوط زدہ ہے البتہ زہرہ کی حالت ہبوط رد ہو رہی ہے چونکہ زہرہ شرف یافتہ عطارد کیساتھ ہے لہذا اچھا ہے۔ زہرہ کو کوئی کواکب ناظر نہیں ہے ۔ زائچہ نوانش میں زہرہ دوست کواکب کے برج میں نحس زحل کے ساتھ ہے البتہ مشتری سے ناظر ہےلہذا زہرہ بھی طاقتور ہے۔
طالع کا کارک شمس سے کوئی بھی کواکب ناظر نہیں ہے جبکہ شمس دو سعد کواکب یعنی عطارد اور مشتری کے درمیان ہے جو کہ شبھ کرتری یوگ بنا رہا ہےاور شمس کی حالت ہبوط بھی رد ہورہی ہے ۔ زائچہ نوانش میں شمس کو زحل ، مشتری اور عطارد ناظر ہیں لہذا شمس بھی قوی ہے ۔
حکم زائچہ: زہرہ، شمس اور عطارد طالع کو قوی طور متاثر کررہے ہیں جبکہ زحل اور مشتری بھی طالع کو متاثر کر رہے ہیں چونکہ زحل نوانش میں حاکم طالع کے ساتھ ہے اور مشتری حاکم طالع کو ناظر ہے۔ صاحب زائچہ کا رنگ صاف، درمیانے قد اور خوبصورت شکل ہوگا اور ظاہری شکل عام طور پر جوان ہوگی۔ وہ انسانی فطرت کا گہرا مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ آسانی سے استدلال کے قابل نہیں ہے اور سوچے سمجھے انداز میں آزاد جذبہ ظاہر کرے گا۔ زہرہ کی مہاء دشاء میں زحل کی انتر دشاء پیدائش کے دوسال بعد تک چلے گی جس میں صاحب زائچہ ٹائیفائیڈ اور ملیریا کے بخار سے شدید متاثر تھا۔زہرہ آٹھویں گھر کا حاکم بھی ہے جوکہ نحس ہے۔ قمر، مریخ اور راس کا قران جذباتی پریشانیاں ظاہر کرتا ہے ۔










