نجوم، ہماری زمینی زندگی پر آسمانی اثرات جاننے کا نام ہے۔ یہ ایک قدیم علم اور لطیف فن ہے۔ آسٹرولوجی صرف پیش گوئی (پریڈکشن) کا نام نہیں۔ پیش گوئی، علم نجوم کا ایک حصہ ضرور ہے، لیکن اس کا مترادف نہیں۔ کیونکہ یہ علم ”خود آگہی” اور ”وقت شناسی” کا راستہ دکھاتا ہے۔ نجوم اپنی ذات سے روشناس ہونے کا باکمال ذریعہ ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس علم سے متعلق آگہی کم اور کج فہمی زیادہ پائی جاتی ہے۔ عام طور پر آسٹرولوجر کو لوگوں کی قسمت بدلنے والا کردار تصور کیا جاتا ہے۔ جو حقیقت کے بالکل برخلاف بات ہے۔ آسٹرولوجی کا مقصد عوام کو ہولناک مستقبل سے ڈرا کر پتھر فروخت کرنا، صدقے کے روپوں کی گنتی بتانا، یا تعویز بانٹنا ہرگز نہیں۔ اور نا ہی علم نجوم ان پر منحصر ہے۔
میری رائے میں نجوم کا فن دراصل تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ زائچہ بنانا، زائچہ پڑھنا اور صاحبِ زائچہ کی رہنمائی کرنا۔
اول: زائچہ بنانا
آسان زبان میں سمجھیں تو زائچہ آسمانی عکس یا نقشہ ہوتا ہے۔ اسے کنڈلی، چارٹ، وھیل یا میپ بھی کہا جاتا ہے۔ زائچہ یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص تاریخ، وقت اور جگہ کی نسبت آسمان پر سورج، چاند اور سیارے کہاں تھے، اور ان کا باہمی تعلق کیا تھا۔ ہر شخص کا زائچہ دوسرے شخص سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ آسمان پر سورج، چاند اور سیارے ایک مقام پر ساکت نہیں۔ بلکہ مسلسل حرکت میں ہیں۔
آسٹرولوجی کا پہلا مرحلہ اور آسٹرولوجر کی اولین ذمے داری درست زائچہ کشید کرنا ہے۔ یعنی سیاروں اور دیگر سماوی نقاط (مثلاً طالع و عاشر) کی درست پوزیشن معلوم کرنا، سیاروں کی قوت و ضعف اخذ کرنا، اور حرکات و ادوار کا حساب لگانا۔ علم نجوم کا یہ پہلا حصہ خالصتاً ریاضیاتی اور سائنسی ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک زائچہ بنانے کا حسابی کام ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔ لیکن آج کل کمپیوٹر سوفٹ ویئر اور موبائل ایپ سے یہ مشکل کام لمحوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔
زائچہ بنانے (کیلکولیٹ کرنے) کی بنیاد کون و مکان (ٹائم اینڈ اسپیس) ہے۔ یعنی زائچہ بنانے کے لیے آپ کو تاریخ، وقت اور مقام (شہر) معلوم ہونا چاہیے۔ مکمل تاریخ پیدائش اور درست وقتِ پیدائش کے بغیر برتھ چارٹ نہیں بن سکتا۔ آسٹرولوجی میں مکمل زائچہ پیدائش بنانے کے لیے نام کا پہلا حرف یا ماں کا نام استعمال نہیں ہوتا۔ اور نا ہی کالے بکرے یا پیلے کپڑے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کامن سینس رکھتے ہیں، اور آپ کے پاس اپنی تاریخ اور وقت پیدائش کی یقینی معلومات ہیں تو اپنا زائچہ خود بھی بناسکتے ہیں۔ سوفٹ ویئر یا موبائل ایپ کی مدد سے زائچہ (چارٹ) بنانا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ تاہم ریاضیاتی طور پر زائچہ بنانا، اور علمی طور پر زائچہ پڑھنا (یعنی تشریحِ احکامات)، دو مختلف باتیں ہیں۔
دوم: زائچہ پڑھنا
سورج، چاند، سیارے، بیوت اور بروج اپنی مخصوص منسوبات اور خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان کا تجزیہ کرنا اور حکمت سے نتائج اخذ کرنا علم نجوم کا دوسراحصہ ہے۔اسے عام زبان میں زائچہ پڑھنا بھی کہتے ہیں۔ علم نجوم کے مطابق آسمانی اثرات، ہماری زمین اور زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ جدید سائنسدان ، اِن اثرات کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ اِنھیں کسی تجربہ گاہ میں چانچا نہیں جاسکتا۔ لیکن صدیوں پر محیط اجتماعی انسانی مشاہدہ ان اثرات کی تصدیق کرتا ہے۔
زائچہ پڑھنے اور تجزیے کے بہت سے طریقے ہیں، بہت سے اصول ہیں، اور بہت سے مکاتبِ فکر ہیں۔ یہ سب زندگی کے مختلف پہلوؤں کوجاننے اورپیش گوئی کے کام آتے ہیں۔ علم نجوم کی بیشتر کتابیں اسی موضوع سے متعلق ہیں۔ ان کی مدد سے ممکنہ نتائج اور احکامات اخذکیے جاتے ہیں ۔ زائچہ پڑھنے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ڈاکٹر علم اور تجربے کی بنیاد پر میڈیکل رپورٹ یا ایکسرے رپورٹ پڑھ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ جیسے کبھی کبھار دو ڈاکٹروں کی رائے میں فرق ممکن ہے۔ ایسے ہی دو آسٹرولوجر کسی ایک نکتے پر مختلف رائے رکھ سکتے ہیں۔ تاہم اختلاف رائے کی صورت کم ہی پیدا ہوتی ہے۔
سوم: حاملِ زائچہ کی رہنمائی کرنا
فلکی اثرات سے اخذ کردہ نتائج اور پیش گوئی کو آسان انداز اور مفید مشورے کے طور پر حاملِ زائچہ تک پہنچانا آسٹرولوجی کا تیسرا اہم مرحلہ ہے۔ تاکہ رجوع کرنے والا شخص (یعنی سائل یا مولود) آگہی حاصل کرسکے، منصوبہ بندی اور اہم فیصلے کرسکے۔
آسٹرولوجر اپنے کلائنٹ کوجس انداز میں مشورہ دیتا ہےاور جن لفظوں میں آگہی فراہم کرتاہے وہ بہت اہم ہیں۔ابلاغ کا یہ ہنر اپنے طور پر ایک فن ہے اور ساتھ ایک ذمے داری کا کام بھی۔ایک آسٹرولوجر کے سامنے کس عمر، کس پس منظر، کس کلچر اور کس فکر کا سائل موجود ہے؛ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس کی مدد کرنا۔ پھر یہ کہ نجوم کی اصطلاحات اور تکنیکی الفاظ میں الجھے بغیر صاحبِ زائچہ کو عام فہم انداز میں نتائج سے آگاہ کرنا۔ جیسے ایک ماہر ڈاکٹر اپنے مریض کومشکل زبان استعمال کیے بغیر مشورہ اور دوا تجویز کرتا ہے۔ علم نجوم کے اس عملی حصہ کو مشارت اور رہنمائی (کاؤنسلنگ) کہہ سکتے ہیں۔ ایک اچھے آسٹرولوجر کو دوست نما استاد اور طبیب کی طرح ہونا چاہیے۔ ڈرانے دھمکانے والے بد گو کی طرح نہیں۔ مثلاً کسی نوجوان شخص کو ناکام زندگی کی وعید سنانا، کسی نوعمر لڑکی کو طلاق کی پیش گوئی دینا، یا کسی بوڑھے شخص کو موت کی گھڑی بتانا کسی طور درست نہیں۔ ایسی منہ پھٹ تکے بازیاں اور ہولناک پیش گوئیاں، عوام کو بے جا خوف اور نفسیانی الجھن میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ نیز ایسا رویہ نجوم کی اخلاقیات (آسٹرولوجیکل اِیتھکس) کے خلاف ہے۔
خلاصہ
نجوم کا پہلا حصہ (زائچہ بنانا) سائنسی ہے جو ہیئت (آسٹرونومی) اور ریاضی پر مبنی ہے۔
دوسرا حصہ (زائچہ پڑھنا) دراصل سیاروں ، بروج اور بیوت کاتجزیہ کرنا اوران سے نتائج اخذکرنےکا نام ہے۔
تیسرا حصہ (رہنمائی دینا) آسٹرولوجر کی جانب سے دی جانے والی آگاہی ، پیش گوئی اور مشاورت (ڈِلی نیشن، پریڈکشن اینڈ کاؤنسلنگ) ہے۔










